Baaghi TV

ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

cigreet

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سوات اور مردان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق بھی شریک تھے۔

ذیلی کمیٹی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے انکوائری کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک اس معاملے میں متعلقہ 20 افسران اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ چوری ہونے والے کارٹنوں میں سے 1,262 کارٹن کسان ٹوبیکو برانڈ کے ہیں جو پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی کارٹنوں کی ملکیت کا تعین کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذیلی کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آر کی سنجیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ واقعے کے وقت تعینات آر ٹی او، چیف کمشنر اور ممبر (ٹوبیکو) کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں۔

کمیٹی نے لاہور میں تعیناتی کے دوران ممبر (ٹوبیکو) کے خلاف ہونے والی سابقہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ایف بی آر افسران اور اہلکاروں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔ مزید برآں متعلقہ افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے ایک رکن نے تجویز دی کہ تحقیقات میں تمباکو کارٹیل یا کسی ممکنہ گٹھ جوڑ کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تمباکو کمپنی کی فیکٹری اور قیمتی مشینری پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہے اور برآمد شدہ کارٹن ٹیکس چوری کے مقدمے میں بطور ثبوت رکھے گئے تھے۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو اس پہلو کی بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔

پارلیمانی نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہیں جو قومی اہمیت کے معاملات کی باریک بینی سے جانچ یقینی بناتی ہیں۔ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ ذخائر پر زیادہ قیمتوں سے ممکنہ طور پر کس کو فائدہ پہنچا۔ مزید برآں ایف آئی اے ٹیم کو اس مقام کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی جہاں سے سگریٹ چوری ہوئے۔بریفنگ کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ تمباکو کمپنی کی بینک ٹرانزیکشن ہسٹری بھی پیش کی۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر فیکٹری 2024 سے سیل ہے تو 2024–25 کے دوران مالی لین دین کیسے ریکارڈ ہوا۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو ٹرانزیکشن کی تفصیلات دوبارہ تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔

ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے اپنے گوداموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معیاری طریقہ کار (SOPs) اور حفاظتی پروٹوکول وضع کر کے نافذ کر دیے ہیں۔ تاہم کنوینر نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سگریٹ چوری کے مقدمے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

اجلاس میں دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا جن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال، فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد اور بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ان علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ علاقے اسمگلنگ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد سے متعلق تفصیلی ڈیٹا پیش کیا جائے، جبکہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ بلوچستان میں داخل ہونے والے ایرانی تیل کے حوالے سے متعلقہ معلومات پیٹرولیم ڈویژن سے حاصل کی جائیں۔

More posts