Baaghi TV


امریکا دوہری پالیسی اپنا رہا ہے، ایران کا زمینی جنگ کی تیاری کا الزام


ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک طرف امن مذاکرات کی بات کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن سفارتکاری کو ایک پردے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا بظاہر بات چیت کا پیغام دے رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ قالیباف کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکی فوج نے زمینی مداخلت کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
‎ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ امریکی فوجیوں کی خطے میں تعیناتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اور ایران اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اشارہ دیا تھا کہ توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملوں میں وقفہ دے کر کسی ممکنہ حل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
‎تاہم ایرانی قیادت نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے نفسیاتی حربہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس حکمت عملی کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی فوجی تیاریوں کو مکمل کر سکے۔
‎ادھر اطلاعات کے مطابق امریکی بحری جہاز یو ایس ایس تریپولی خطے میں پہنچ چکا ہے، جس کے ساتھ ہزاروں میرینز اور جنگی طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ممکنہ محدود زمینی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارتکاری اور عسکری تیاری ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس سے کسی بھی وقت کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

More posts