ایران اور امریکا نے عمان میں مذاکرات کے بعد مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور کہا کہ آئندہ دنوں میں مشاورت کے بعد مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا آغاز مثبت رہا اور بالواسطہ گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے اپنے خیالات اور تحفظات ایک دوسرے تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کار مشاورت کے لیے اپنے ملک واپس جائیں گے اور بات چیت جاری رہے گی، تاہم امریکا کے ساتھ "بے اعتمادی کی دیوار” کو عبور کرنا ہو گا۔
عباس عراقچی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ واشنگٹن سے مذاکرات میں شریک ہے اور اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا، جبکہ وعدوں کا احترام ضروری ہے۔
امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
ایران اور امریکا مذاکرات کا آغاز مثبت ، دونوں ممالک مزاکرات جاری رکھنے پر متفق
