ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور امریکہ نے جمعے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر اہم اور حساس مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں جنگی خدشات بھی موجود ہیں۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق جمعے کے روز ایک قافلہ، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں امریکی حکام شامل تھے، مسقط کے قریب واقع ایک محل میں داخل ہوا، جہاں مذاکرات منعقد ہو رہے ہیں۔ قافلے کی ایک گاڑی پر امریکی پرچم بھی دیکھا گیا۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو لے جانے والی گاڑیاں بھی وہاں پہنچیں، جنہوں نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی سے ملاقات کی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مسقط میں ہونے والی بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے گی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہو رہا ہے تاکہ جوہری مسئلے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات بھی شامل ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ بات چیت کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایران کی قیادت امریکی دھمکیوں اور خطے میں امریکی بحریہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران کو امید ہے کہ امریکی فریق ذمہ داری، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
عمان کے شہر مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
