ایران نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں کم از کم 120 اہم ثقافتی اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ سکتی ہے۔
تہران سٹی کونسل کی ہیریٹیج کمیٹی کے سربراہ احمد علوی کے مطابق ان حملوں میں مختلف صوبوں میں واقع عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مقامات کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف ایران بلکہ عالمی ثقافت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔
سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ مقامات میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل گلستان پیلس بھی شامل ہے، جسے ایرانی تاریخ کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مرمر پیلس، تیمور تاش ہاؤس اور سعد آباد پیلس کمپلیکس جیسے نمایاں مقامات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سعد آباد پیلس کمپلیکس تہران کا ایک اہم سیاحتی اور تاریخی مرکز ہے جہاں وسیع پارک، عجائب گھر اور ایرانی تاریخ کے مختلف ادوار کی جھلک پیش کی جاتی ہے۔ اس کمپلیکس کے قریب اہم سرکاری عمارتیں بھی موجود ہیں جن میں صدارتی رہائش گاہ اور دیگر حساس اداروں کے دفاتر شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں سے نہ صرف عمارتوں کے ڈھانچے متاثر ہوئے بلکہ کئی قیمتی نوادرات اور تاریخی اشیاء کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جن کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یونیسکو سمیت بین الاقوامی ادارے اس معاملے پر ردعمل دے سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال شدت اختیار کر چکی ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
امریکی و اسرائیلی حملوں میں 120 تاریخی و ثقافتی مقامات متاثر: ایران
