Baaghi TV

ایران کا ایک اور امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس طیارے کو وسطی ایران کی فضاؤں میں پرواز کے دوران نشانہ بنایا گیا، جو مکمل طور پر تباہ ہو کر زمین پر جا گرا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کے تباہ ہونے کے دوران ہونے والے شدید دھماکے کے باعث امکان کم ہے کہ پائلٹ خود کو بچانے میں کامیاب ہوا ہو۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم اس سے قبل ایران کے اسی نوعیت کے ایک اور دعوے کو مسترد کیا جا چکا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اس قسم کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے، جبکہ موجودہ صورتِ حال میں حقائق کی مکمل وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے کے مطابق ایران اب بھی نمایاں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا حامل ہے، باوجود اس کے کہ گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اہداف پر مسلسل حملے کیے گئے،سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں جبکہ ہزاروں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھی اس کے ذخیرے میں موجود ہیں، جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کچھ میزائل لانچرز زیرِ زمین ہونے یا حملوں کے باعث ناقابل رسائی ضرور ہو سکتے ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے،رپورٹس کے مطابق ایران کی تقریباً 50 فیصد ڈرون صلاحیت بدستور موجود ہے، جبکہ ساحلی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے کروز میزائلوں کی بڑی تعداد بھی محفوظ ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا نے اپنی فضائی کارروائیوں میں زیادہ تر ساحلی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا، جس کے باعث یہ میزائل بدستور فعال ہیں۔،یہ میزائل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی اہم صلاحیت رکھتے ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

More posts