ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران شدید دباؤ اور حملوں کے بعد امریکا نے بالآخر جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ محمود نبویان کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں مخالف فریق کسی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا اور چند دنوں کے اندر ہی صورتحال بدلنا شروع ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 سے 15 دن کی شدید لڑائی کے بعد مخالفین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے، جس کے بعد جنگ بندی کے مطالبات سامنے آنا شروع ہوئے۔ نبویان کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کی۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایران سے رابطہ کیا اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے پیغامات پہنچائے۔ ان کے مطابق یہ پیغامات بالواسطہ طور پر مختلف ذرائع سے منتقل کیے گئے جن میں پاکستان کا کردار بھی شامل تھا۔
نبویان کے مطابق ایران نے فوری طور پر ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دباؤ اور مسلسل حملوں نے مخالفین کے منصوبے ناکام بنا دیے، جس کے باعث انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے پیغامات تقریباً دو ہفتے قبل پہنچائے گئے تھے، تاہم ایران نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے فوری ردعمل سے گریز کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران
