ایران نے امریکی کمپنی اسٹار لنک کی سیٹلائیٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی ڈیوائسز بڑی تعداد میں قبضے میں لے لی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی حکومت نے حالیہ پُرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ملک میں زیادہ تر انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیے تھے، جبکہ فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات کی سہولت بھی محدود کر دی گئی تھی۔
امریکی اخبار کے مطابق اس وقت ایران میں بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی صرف حکومت، سرکاری میڈیا اداروں اور حکومت کے حامیوں کو حاصل ہے۔ انٹرنیٹ بندش کے بعد اسٹار لنک کے مالک ایلون مسک نے ایران میں مفت انٹرنیٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اس اعلان کے بعد ایران میں سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے اسٹار لنک کی متعدد ڈیوائسز ضبط کر لی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں اسٹار لنک ٹرمینلز غیر قانونی ہیں اور انہیں خفیہ طور پر ملک میں اسمگل کیا جاتا ہے۔ یہ ٹرمینلز 2022 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑی تعداد میں سامنے آئے تھے۔
ایران کا اسٹار لنک کے خلاف کریک ڈاؤن، بڑی تعداد میں سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز ضبط
