ایران کے فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ عباس مسجدی آرانی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں شہید ہونے والوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے باعث لاشوں کی شناخت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 40 فیصد لاشوں کی ابتدائی طور پر شناخت ممکن نہیں ہو سکی، جس کے لیے جدید فرانزک طریقوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
عباس مسجدی آرانی کا کہنا تھا کہ فرانزک ٹیمیں عدلیہ کے ساتھ مل کر متاثرین کی شناخت، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور دیگر ضروری کارروائیوں پر مسلسل کام کر رہی ہیں تاکہ لواحقین کو معلومات فراہم کی جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ صرف انسانی المیہ ہیں بلکہ اس سے امدادی اور انتظامی نظام پر بھی شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرین کی شناخت و امداد کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے سنگین اثرات کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے انسانی نقصانات کس قدر وسیع ہو سکتے ہیں۔
امریکا اسرائیل حملوں میں ایران میں شہادتیں 3 ہزار سے تجاوز
