Baaghi TV


ایران کی امریکا سے براہِ راست مذاکرات کی تردید، سخت مؤقف


ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تمام پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو بھیجی جانے والی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ تھیں، جنہیں موجودہ حالات میں قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے متوازن اور حقیقت پر مبنی تجاویز ضروری ہیں۔
‎ترجمان نے اس بات کو سراہا کہ خطے کے کچھ ممالک امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ناگزیر ہے تاکہ مؤثر سفارتی حل سامنے آ سکے۔
‎دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
‎اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ یوکرین تنازع کو ایران کے خلاف جاری جنگ کے ساتھ جوڑنا ایک خطرناک غلط فہمی ہے، جو عالمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

More posts