ایران کے نائب وزیر تیل نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر لی جائے گی۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر تیل نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے۔ ان کے مطابق نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد بحالی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا تھا اور اب اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاوان آئل ریفائنری، جو حملوں کے دوران شدید متاثر ہوئی تھی، اس کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر دے گا۔ یہ پیش رفت ایران کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ریفائننگ صلاحیت کی بحالی عالمی تیل مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے سپلائی میں بہتری آئے گی اور ممکنہ طور پر قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اپنی توانائی کی صلاحیت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ایران کی آئل ریفائننگ بحالی کا اعلان، 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال
