Baaghi TV

اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز، ایران نے ریڈ لائنز بتا دیں

iran

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے اہم امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندہ وفود پاکستان کے دارالحکومت میں موجود ہیں، جہاں سفارتی سطح پر رابطے تیز ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے پاس ہے۔ دونوں وفود نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وفود سے الگ الگ ملاقاتوں میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، بحری راستوں کی سلامتی اور سفارتی حل کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ تاہم ابھی تک اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز اور "سرخ لکیریں” پاکستان کے وزیراعظم تک پہنچا دی ہیں۔ ایران کے اہم مطالبات میں آبنائے ہرمز کی حیثیت، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور پورے خطے میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔ایرانی حکومت کی ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن مکمل احتیاط کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اعتماد کے فقدان سے بخوبی آگاہ ہے، اس لیے سفارتی ٹیم انتہائی محتاط حکمت عملی کے تحت مذاکرات میں داخل ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد میں جاری ان اہم بات چیت پر مرکوز ہیں۔

More posts