Baaghi TV

اسرائیل،امریکہ ،ایران جنگ،پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا،صورتحال مزیدسنگین

usa

ایران کے صدر نے کہا ہے کہ“ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ نہیں کریں گے۔” مگر صرف 5 گھنٹے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسے “غلطی” قرار دیا اور حملے جاری رکھے۔

ایک ایرانی ڈرون نے دبئی مرینا میں ایک رہائشی ٹاور کو نشانہ بنایا ، جو مکمل طور پر شہری عمارت تھی۔

اسرائیلی فوج نے ایران کی پارچین اور شاہرود میزائل فیکٹریوں کو تباہ کر دیا ، مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کو مستقبل میں دوبارہ میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے۔

ایک بیلسٹک میزائل سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب گرا ، جہاں امریکی F-15 طیارے، THAAD اور پیٹریاٹ دفاعی نظام موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کو براہِ راست پیغام دیا “جارحیت فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔”اور ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ نے قشم جزیرے پر واقع ایک میٹھا پانی بنانے والے (ڈیسالینیشن) پلانٹ کو بمباری میں نشانہ بنایا،جس کے بعد 30 دیہات پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔

اسرائیل نے لبنان کی بقاع وادی پر حملہ کیا ، ایک ہی حملے میں 41 افراد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 339 لبنانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ایران نے عبرانی زبان میں براہِ راست اسرائیلی شہریوں کو پیغام جاری کیا جس میں اسرائیل پر انسانی ڈھال استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔

اٹلی نے قبرص کی جانب ایک جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا: “ہم اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں۔” لیکن اس کے باوجود فوجی وسائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

عمان کے وزیر خارجہ نے کہا“اس جنگ کو روکنا تمام عرب ممالک کے لیے اعلیٰ ترین قومی مفاد ہے۔”

وہ باتیں جو سب سے زیادہ تشویشناک ہیں

ایران کے میزائل حملوں میں 90٪ کمی آئی ہے ، ماہرین کے مطابق یہ کمزوری نہیں بلکہ حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے۔یعنی ایران طویل جنگ کے لیے گولہ بارود محفوظ کر رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کھلے عام دنیا سے کہا کہ اپنے ہی صدر کی بات کو نظر انداز کریں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر شدید تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ خلیجی ممالک پر حملے اب اسرائیل سے زیادہ بار ہونے لگے ہیں۔ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے تو امریکہ کے پاس متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ امریکہ کے پانی کے پلانٹ پر حملے کے بعد ایران اب تمام شہری انفراسٹرکچر کو جائز ہدف سمجھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو رہی ہے،صرف 8 گھنٹوں میں 8 ممالک اس بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔صورتحال انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

More posts