ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے حوالے سے محتاط اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مزید وضاحت چاہتا ہے تاکہ تہران کی جانب سے مکمل پابندی اور آبنائے ہرمز کی “بلا مشروط بحالی” کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امارات یہ بھی چاہتا ہے کہ جنگ کے دوران ملک کو پہنچنے والے نقصانات پر ایران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔متحدہ عرب امارات نے اپنے بعض خلیجی اتحادیوں کے برعکس ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کرنے سے گریز کیا اور واضح کیا کہ صرف وقتی وقفہ کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے معاملات کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
صدر امارات کے مشیر انور قرقاش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امارات کے مؤقف پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا “رسمی مروّت کا دور گزر چکا ہے، اب صاف گوئی ناگزیر ہو چکی ہے۔ آنے والے مرحلے میں ہمیں ایک مضبوط اور واضح اجتماعی مؤقف اپنانا ہوگا جو خطے میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دے۔”
واضح رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں کا بڑا نشانہ بنا، جہاں تقریباً نصف میزائل اور ڈرون حملے امارات کی جانب کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ایران کی جانب سے اماراتی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں ایرانی میڈیا نے ایران کی آئل ریفائنریوں پر پہلے کیے گئے حملوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔
