Baaghi TV

نیٹو پر اعتماد،ایران جنگ میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے،برطانوی وزیراعظم

لندن: برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹار مر نے عوام کو موجودہ عالمی صورتحال پر اعتماد دینے کی کوشش کی، تاہم مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کسی نئی پالیسی یا ریلیف کا اعلان نہیں کیا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں مستقبل میں برطانیہ اور یورپ کے تعلقات کے لیے واضح سمت تو دی، مگر عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حوالے سے کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔برطانوی وزیرِاعظم نے آبنائے ہرمز کی بندش پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آئندہ چند ہفتے مشکل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے “اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی” کر رہی ہے، تاہم یہ اقدام جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور صورتحال کا دارومدارامریکہ اور اسرائیل کے فیصلوں پر ہے۔ ایران امریکا جنگ ہماری نہیں، اس میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے، ایران جنگ کے اثرات ہمارے مستقبل کو متاثر کریں گے اس لیے ہم برطانیہ کو اس جنگ میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ ملک دینا چاہتے ہیں۔

مہنگائی کے بڑھتے دباؤ کے باوجود وزیرِاعظم نے کسی نئی امدادی پیکج کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے گزشتہ بجٹ میں کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیا، جن میں کم از کم اجرت میں اضافہ، ادویات کی قیمتوں کو منجمد رکھنا اور توانائی کی قیمتوں پر حد مقرر کرنا شامل ہے۔یہ رویہ آسٹریلوی وزیراعظم کے حالیہ فیصلے کے برعکس ہے، جہاں ایندھن ٹیکس میں عارضی کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ رہی کہ وزیرِاعظم نے عوام کو اپنی روزمرہ عادات تبدیل کرنے کی کوئی ہدایت بھی نہیں دی، جبکہ دیگر ممالک میں شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صرف “پُرسکون اور واضح قیادت” کی ضرورت پر زور دیا۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات ضروری ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کسی ایک کا انتخاب نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دفاع، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں یورپ کے ساتھ تعاون بڑھانا برطانیہ کے مفاد میں ہے اور اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔برطانوی وزیرِاعظم نے نیٹو کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے مؤثر فوجی اتحاد ہے اور برطانیہ اس کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، چاہے امریکی صدرکی جانب سے اس پر تنقید کیوں نہ کی جائے۔

More posts