ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا سے خطہ چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں قالیباف نے کہا کہ خطے کے ممالک کو کئی ماہ پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ ان کی سرزمین پر امریکی موجودگی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ہے، خطے کی سیکیورٹی مستحکم ہونی چاہیے اور یہ بیرونی مدد سے نہیں ہوسکتی۔ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ امریکا کو اس خطے سے نکلنا ہوگا۔
دوسری جانب یورپی یونین نے ایران کیخلاف امریکی جنگ میں شرکت سے انکار کردیا۔یورپی فارن پالیسی چیف کا کہنا ہے کہ یہ یورپ کی جنگ نہیں ہے، اس لیے ممبر ممالک نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے مشن میں شرکت سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس جنگ میں براہ راست شامل ہونا نہیں چاہتا، کیونکہ سب کو اس جنگ کے نتائج کی فکر ہے۔کاجا کالس نے کہا کہ ہماری توجہ توانائی اور تجارتی راستوں کی بحالی پر مرکوز ہے۔
علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز پر حملہ کردیا، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔میری ٹائم ایجنسی کے مطابق الفجیرہ بندرگاہ کے قریب ٹینکر پر پروجیکٹائل گر گیا، حملے کے وقت آئل ٹینکر بحیرہ عمان میں موجود تھا، حملے میں ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔خبر ایجنسی کے مطابق اب تک خلیج فارس میں 20 تیل بردار جہاز حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔
دوسری جانب قطر میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔قطری حکام کے مطابق امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا، قطری فورسز نے متعدد میزائل اور ڈرونز مار گرائے۔حکام کے مطابق میزائل کا ملبہ گرنے سے انڈسٹریل زون میں آگ بھڑک اٹھی، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ہوا تو مسلم ممالک نے ساتھ نہیں دیا جس پر افسوس ہے، ایران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہاتھ اندھے خاموش کھڑا رہے، ایران خطے پر تسلط قائم کرنے کا خواہاں نہیں۔ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے سوال کیا ہے کہ مسلم ممالک بتائیں وہ کس طرف ہیں؟، ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، جب ایران پر حملہ ہوا مسلم ممالک نے ساتھ نہیں دیا، جس پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ملکوں نے ایران کو ہی دشمن قرار دیا، ایران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہاتھ باندھے خاموش کھڑا رہے، ایران خطے پر تسلط قائم کرنے کا خواہاں نہیں، امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں.
