Baaghi TV

ایران میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

تہران: ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے ملک میں بدامنی، انتشار اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کا واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عناصر کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

خبر رساں ادارے میزان کے مطابق چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے عدالتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور تمام صوبوں کے پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شرپسند عناصر، تخریب کاروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائیں۔چیف جسٹس نے ملک میں حالیہ پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عوامی امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرامن احتجاج کو آئینی حق تسلیم کرتا ہے، تاہم احتجاج کے نام پر تشدد، تخریب کاری اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے شہریوں اور منظم تخریب کار گروہوں کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے، کیونکہ کچھ عناصر عوامی مطالبات کی آڑ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالتی اداروں پر زور دیا کہ وہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ایرانی چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جو عناصر عوامی سلامتی، قومی مفادات اور ریاستی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور عدلیہ اس حوالے سے کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف گزشتہ 9 روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران مختلف شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے، جبکہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

More posts