ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ رات ایرانی حکومت کے حق ریلی نکالی گئی جہاں بڑی تعداد میں شہریوں نے ملک کی قیادت کے حق میں مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ اسرائیل ،امریکہ مخالف نعرے اور گانے بھی ریلی کا حصہ رہے۔
ریلی میں متعدد افراد نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں، جو فروری میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں مارےگئے تھے۔ریلی اور مظاہروں میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی، شرکا ایرانی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے،خواتین نے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ ریلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی داخلی سیاسی صورتحال اور عوامی حمایت پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی عوام کی بڑی تعداد حکومت کی پالیسیوں کی مکمل حمایت نہیں کرتی، تاہم ملک میں اب بھی حکومت کے حامی حلقے موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بعض افراد ایسی ریلیوں میں حکومتی دباؤ، سماجی توقعات یا روایتی وابستگی کے باعث بھی شرکت کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ تمام شرکاء حکومت کے پُرجوش حامی ہوں۔رائٹرز کی جانب سے جاری تصاویر میں ریلی کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات، ایرانی پرچموں کی بہار اور حکومت کے حق میں نعرے بازی دیکھی جا سکتی ہے۔
