مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے باعث خطے کی صورتحال نہایت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں کے باعث کئی ممالک براہ راست اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ویب سائٹ ے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنا ہے۔ اس بیان کو سفارتی سطح پر ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار کے مطابق جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد اہلکار شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر ایک اور فضائی حملہ کیا ہے۔ بیروت کے جنوبی علاقے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی اسرائیل یہاں متعدد فضائی کارروائیاں کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی ایک نئی لہر بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس بار اسرائیل میں حملوں سے قبل صرف چار منٹ کی پیشگی وارننگ دی گئی جبکہ اس سے پہلے عموماً سات سے آٹھ منٹ کا وقت ملتا تھا۔ تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم فوری طور پر کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ایران کے مرکزی فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن کے ریڈار نظام تباہ ہونے کے بعد ایرانی مسلح افواج کو کارروائیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے اور حملوں کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی بیلسٹک میزائل پرنس سلطان ایئربیس (سعودی عرب) پر جا گرا جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے متعدد ری فیولنگ طیاروں کی موجودگی بھی دیکھی گئی ہے۔مزید برآں سیٹلائٹ اور ڈرون تصاویر میں ایئر بیس کے قریب ایک ریڈار سائٹ سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں امریکی دفاعی اڈے پر حملہ
امریکی صحافی ریان گِرم کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی THAAD میزائل دفاعی نظام کے ایک اڈے پر ایرانی حملوں کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ تاہم اس حملے کے نقصانات کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایسے علیحدگی پسند گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جسے ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔ حکام کے مطابق یہ گروپ کئی ماہ سے ایران کے مغربی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں جنگ سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر جاری کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور ایسی معلومات پھیلانے والوں کو قید کی سزاؤں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے جنگ سے متعلق زیادہ تر ویڈیوز لبنان اور ایران سے سامنے آ رہی ہیں۔
جنگی صورتحال کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 2023 کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جنگ اور جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے درمیان ایک بڑا فرق یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے اندر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نیٹ ورک کی سرگرمیاں اس بار نہایت محدود نظر آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق گزشتہ مہینوں میں موساد کے متعدد خفیہ سیلز کو نقصان پہنچا ہے۔
