Baaghi TV

ایران معاہدے کا خواہشمند ہے،ٹرمپ کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید

trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا “بہت خواہشمند” ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بات چیت “بہت مضبوط” رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ اہم امور پر پیش رفت کی ہے اور مذاکرات “بالکل درست سمت میں” جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت گزشتہ روز رات تک جاری رہی۔ٹرمپ کا کہنا تھا، “ایران بہت زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم بھی اس کے خواہشمند ہیں۔ ممکنہ طور پر آج دوبارہ رابطہ ہوگا، شاید فون پر، کیونکہ ان کے لیے آنا جانا مشکل ہے۔”

امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا، “اگر کوئی حل نہ نکلا تو ہم بمباری جاری رکھیں گے۔”ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے حال ہی میں اسرائیل سے رابطہ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی معاہدے پر اسرائیل مطمئن ہوگا۔ ان کے بقول، “یہ اسرائیل کے لیے طویل المدتی اور یقینی امن کا باعث بن سکتا ہے۔”

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ نہ براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ بیانات امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وقت حاصل کرنا اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بارک راویڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایرانی خبر رساں اداروں نے اس کی بھی تردید کی ہے۔ایران کے سرکاری اخبار کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔اخبار نے کہا، "امریکی صدر کے ریمارکس توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے وقت خریدنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔”فارس خبر رساں ایجنسی نے بھی ٹرمپ کی سوشل پوسٹ کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

More posts