ایران نے بھارت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ بھارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں تعینات بھارتی سفیر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ ایران بھارت کے بحری جہازوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے میں تعاون سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ کشیدگی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب بھارتی سیلرز یونین نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 20 ہزار بھارتی عملہ مختلف جہازوں پر موجود ہے، جس کے باعث ان کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ یونین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان افراد کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سیلرز یونین نے اس حوالے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستوں کی سیکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز بھی دی تھی، جس پر مختلف ممالک کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے اور تمام جہاز اس سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ کسی دشمنانہ طرز عمل کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی وجوہات کے تحت جہازوں کو ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہنا ضروری ہے تاکہ محفوظ راستوں کے ذریعے ان کا سفر یقینی بنایا جا سکے۔
ایران کا بھارت کیلئے آبنائے ہرمز میں تعاون کا عندیہ
