Baaghi TV

آبنائے ہرمز پر ایران، عمان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل: اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں عارضی محفوظ بحری راستے سے متعلق معاہدہ جلد بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں رجسٹر ہونے کا امکان ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ کوئی بدنیت فریق ایک بار پھر اس عمل میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری صورتحال جنگ نہیں بلکہ ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کھلی فوجی جارحیت ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں خلیج میں ایک نیا محدود بحری زون اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے نئے بحری راستوں کے نقشے جاری کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر بحری جہازوں پر حملوں کے تبادلے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور اس دوران جنگ تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

جون میں طے پانے والا ابتدائی جنگ بندی معاہدہ بھی ختم ہوچکا ہے، جبکہ جنگ بندی اور امن عمل کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، جن میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور شمالی امریکا سمیت دنیا کے متعدد ممالک شامل ہیں۔

اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سالانہ 33 ہزار کے قریب بحری جہاز گزرتے ہیں، جن میں بڑے آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر خطوں سے ملاتی ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کے ایک جانب امریکا کے اتحادی عرب ممالک جبکہ دوسری جانب ایران واقع ہے۔

تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی آبنائے ہرمز میں دو اہم شپنگ لینز موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک تقریباً 3 کلومیٹر چوڑی ہے اور انہی راستوں سے بڑے آئل ٹینکرز اور دیگر تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔

عالمی توانائی کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجموعی عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

More posts