Baaghi TV


آبنائے ہرمز پر ایرانی کرنسی میں فیس کی تجویز، امریکا کا اعتراض

‎ایران نے ایک اہم پیش رفت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو فیس ایرانی کرنسی میں ادا کرنا ہوگی۔
‎ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے اور امریکی بحری جہاز بھی اس سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ کسی قسم کا دشمنی پر مبنی رویہ اختیار نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے کہ تمام جہاز ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ ان کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آبنائے ہرمز میں مخصوص محفوظ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے جہازوں کو بحفاظت گزارا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کو ایران کی جانب سے اپنی بحری حدود میں کنٹرول بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
‎دوسری جانب امریکا نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ایسا کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل بند کرنا ہوگا۔
‎امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تیل کی نقل و حرکت پر اس قسم کے اقدامات عالمی معاہدوں کے خلاف ہیں اور خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔
‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ایران کی یہ تجویز نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

More posts