ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے کے لیے رضامند ہو۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں تخت روانچی نے کہا کہ ایران پابندیوں کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر بعض اقدامات کرنے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس مسئلے کو میزائل پروگرام اور دیگر حساس امور سے جوڑنے کو بارہا مسترد کیا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان میں بات چیت کا عمل رواں ماہ ہی دوبارہ بحال ہوا ہے۔ تخت روانچی نے کہا: ’ابتدائی بات چیت کم و بیش مثبت سمت میں رہی، لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ کرنا بہت جلدی ہوگا۔‘
ایک ذرائع نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی وفد، جس میں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، منگل کی صبح ایرانی وفد سے ملاقات کرے گا، اور عمانی نمائندے اس عمل میں ثالثی کر رہے ہیں۔
ایران جوہری معاہدے کے لیے امریکہ کے ساتھ سمجھوتے پر بات کرنے کو تیار، نائب وزیر خارجہ
