Baaghi TV

ایران نے سب کو حیران کر دیا، 4000 میل دور برطانیہ کے جزیرہ ڈیگو گارشیا کوکیا ٹارگٹ

ایران نے 2 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ڈیاگو گارشیا ایئربیس کی طرف داغے، جو ایران سے تقریباً 4000 کلومیٹر دور امریکی B-2 اسپرٹ بمبار طیاروں کی میزبانی کرتا ہے۔

ایران دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے ۵ ہزار کلومیٹر فاصلے سے بحر ہند میں واقع امریکی برطانوی فوجی اڈوں کو بلاسٹک میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کا اعتراف وال اسٹریٹ جرنل نے کیا ۔کل برطانیہ نے امریکی دباؤ پر ڈیاگو گا رشیا جزیرے میں واقع اڈے کو امریکی افواج کے استعمال کی اجازت دے دی تھی جس کے جواب میں ابھی چند منٹ قبل ایران نے اس اڈے کو دو بلاسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ۔ آج تک جنگ میں کسی ملک نے اتنے فاصلے سے دشمن کے اہداف کو بلاسٹک میزائل سے نشانہ نہیں بنایا تھا،ایران نے ابھی ڈیگو گارشیا پر لمبی دوری کا حملہ کرنے کی کوشش کی ، جو بحر ہند میں گہرے سمندروں میں واقع امریکہ-برطانیہ کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے۔ ایک میزائل پرواز کے دوران ناکام ہو گیا، دوسرا میزائل امریکی دفاعی نظام نے روک لیا

ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ایک بنیادی مفروضہ ٹوٹ چکا ہے۔ کئی برسوں سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی حد تقریباً 2,000 کلومیٹر تک ہے۔ لیکن اگر کوئی بیلسٹک میزائل ڈیگو گارشیا تک پہنچا ہے تو اس کا مطلب تقریباً 4,000 کلومیٹر کی رینج بنتی ہے، جو اسے میڈیم رینج سے نکال کر انٹرمیڈیٹ رینج (IRBM) کے زمرے میں لے جاتی ہے۔ یہ ایک اسٹریٹجک جست ہے۔”اصل بات یہ نہیں کہ میزائل کو روکا گیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایران شاید اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے جو دنیا کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ 4,000 کلومیٹر کی رینج نقشہ بدل دیتی ہے۔ بڑے یورپی دارالحکومت بھی اس دائرے میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پیرس اس کی پہنچ میں آ جاتا ہے، جبکہ لانڈن بھی لانچ پوائنٹ اور وارہیڈ کی نوعیت کے لحاظ سے خطرے کے قریب ہو جاتا ہے۔””اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میزائل خطرہ اب صرف خلیج، اسرائیل یا جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا دائرۂ اثر، دفاع اور خوف نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ڈیگو گارشیا صرف ایک ہدف نہیں تھا، بلکہ ایک واضح پیغام تھا۔”

More posts