ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے باعث ایشیائی مالیاتی مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت کم ہو کر 97 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل 95.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات سے جوڑی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس میں 1993 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا اور مارکیٹ ایک لاکھ 67 ہزار 457 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے اس مثبت پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ایشیائی مارکیٹس میں بھی مجموعی طور پر مثبت رجحان رہا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 2 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کاسپی انڈیکس 1.40 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.55 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بھارت کا ممبئی سینسیکس بھی دورانِ کاروبار 1.2 فیصد تک اوپر گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند سمجھتے ہوئے مارکیٹس میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے اور اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔
ایران امریکا مذاکرات کا اثر، ایشیائی مارکیٹس میں تیزی، تیل سستا
