ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ، افریقا اور شمالی امریکا تک پھیل گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث 85 سے زائد ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل کو اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان میں بھی عوام کو مہنگائی کے نئے جھٹکے کا سامنا ہے، جہاں پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، بھارت میں بھی ایندھن کا بحران پیدا ہو چکا ہےیورپ میں بھی صورتحال مختلف نہیں، اسپین، جرمنی اور فرانس سمیت متعدد ممالک میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ برطانیہ میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ ویتنام میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں پیٹرول کی قیمت تقریباً 0.75 ڈالر فی لیٹر سے بڑھ کر 1.13 ڈالر فی لیٹر تک جا پہنچی، جو تقریباً 50 فیصد اضافہ بنتا ہے۔اسی طرح لاوس میں تقریباً 33 فیصد جبکہ کمبوڈیا میں 19 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔شمالی امریکا میں بھی امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔
