ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر بوشہر جوہری بجلی گھر پر حملوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے واحد فعال جوہری پاور پلانٹ بوشہر کو اب تک چار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ 4 اپریل کو ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
محمد اسلامی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی بھی وقت تابکار مواد کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تابکار مواد خارج ہوا تو اس کے اثرات انسانوں، ماحول اور ہمسایہ ممالک پر ناقابل تلافی ہوں گے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آئی اے ای اے پر زور دیا ہے کہ وہ صرف تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے، ایران کا آئی اے ای اے کو ہنگامی خط
