امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرتے ہوئے سخت اور غیر معمولی بیانات دیے ہیں۔ امریکی ریاست مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایرانی قوم سے اپیل کی کہ وہ احتجاج جاری رکھے، اپنے اداروں پر قبضہ کرے اور ان افراد کے نام یاد رکھے جو ان کے بقول ظلم و جبر کے ذمہ دار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی اور کہا کہ جو لوگ ظلم ڈھا رہے ہیں انہیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ان کے اس بیان کو ایران کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک ایران میں قتل عام بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام سے کسی قسم کی ملاقات یا مذاکرات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بات چیت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق سوالات پر کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات یہاں بیان نہیں کر سکتے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “میرا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں، سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔” اس بیان کو ممکنہ فوجی یا سخت سفارتی کارروائی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک الگ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ اسی طرح جاری رہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور بات پھانسیوں تک پہنچتی ہے تو پھر امریکہ کو بھی کارروائی کرنا پڑے گی۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی بیان دیتے ہوئے ایرانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے بجائے عوام کا ساتھ دے۔ رضا پہلوی کے مطابق موجودہ حالات میں فوج کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے اور اگر وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو ملک میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو بھی غیر یقینی بنا سکتے ہیں۔
