سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کا جدید جاسوس طیارہ تباہ ہو گیا، جس کے بعد سامنے آنے والی تصاویر نے اس واقعے کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے حملے میں امریکی فضائیہ کا E-3 Sentry طیارہ نشانہ بنا۔ اوپن سورس انٹیلیجنس ٹیموں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کی تصدیق کی ہے، جن میں طیارے کے پچھلے حصے کا ملبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ابتدائی طور پر امریکی حکام نے صرف طیارے کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی تھی، تاہم اب سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حملے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق E-3 Sentry طیارہ جدید ریڈار سسٹم سے لیس ہوتا ہے جو دور سے دشمن کی نقل و حرکت کا پتا لگانے اور جنگی طیاروں کو رہنمائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پاس ایسے طیاروں کی تعداد محدود ہے، جس کی وجہ سے اس کا نقصان ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔سابق امریکی پائلٹ اور دفاعی تجزیہ کار ہیدر پینی کا کہنا ہے کہ اس طیارے کا نقصان “انتہائی تشویشناک” ہے کیونکہ یہ فضائی جنگی آپریشنز میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔جس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا وہ پرنس سلطان ایئر بیس ہے، جو خطے میں امریکی افواج کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔


