ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملوں سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے امریکی میڈیا نے نئی تفصیلات جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نقصان ابتدائی طور پر بتائی گئی صورتحال سے کہیں زیادہ شدید ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران ایران کا ایک ڈرون سفارتخانے کی عمارت سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں عمارت میں بڑا شگاف پڑ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محض ایک منٹ کے اندر دوسرا ڈرون بھی اسی مقام پر آ ٹکرایا، جس سے عمارت کے محفوظ ترین حصے بھی متاثر ہوئے۔ دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے میں امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور آگ تقریباً آدھے دن تک بجھائی نہ جا سکی۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے نقصانات کے حوالے سے دی گئی ابتدائی معلومات درست نہیں تھیں، جبکہ حقیقت میں آگ اور دھماکوں سے سفارتخانے کو کہیں زیادہ نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کی کم از کم تین منزلیں شدید متاثر ہوئیں اور حساس نوعیت کا سی آئی سےاسٹیشن بھی حملے کی زد میں آیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ابتدائی حملے کے چند گھنٹوں بعد مزید ڈرونز داغے گئے، تاہم انہیں میزائل دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ایک ڈرون کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ سعودی عرب میں تعینات اعلیٰ امریکی سفارتکار کی رہائش گاہ کو نشانہ بنا سکتا تھا، جو سفارتخانے سے چند سو فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔
دوسری جانب سابق سی آئی اے اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ریاض میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی حملہ کیا، جس میں ایواکس اور ری فیولنگ طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی میزائل دفاعی نظام ان حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا۔رپورٹس کے مطابق ایران نے جمعے کے روز امریکی فضائیہ کے دو لڑاکا طیاروں، اے-10 اور ایف-15 کو نشانہ بنایا، جبکہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف-35 طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایران نے کویت میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
