ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کی صبح عرب خلیجی ممالک سے غیرمعمولی خطاب میں معافی مانگتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اب اپنے پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کرے گا، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا “میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے۔ ہمارا ارادہ اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ ایران میں عارضی طور پر حکمرانی کرنے والی تین رکنی قیادت کونسل نے مسلح افواج کو واضح ہدایات دی ہیں کہ آئندہ کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ نہ کیا جائے، جب تک کہ وہاں سے ایران کے خلاف حملے نہ کیے جائیں۔“ہمیں اس مسئلے کو لڑائی کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات سے بچنا چاہیے۔”
انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا” نہ بنیں اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر کے اعلان پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔ خطاب کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار رہی، اور متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔
