ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مبینہ مشترکہ حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا، جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں حساس تنصیبات اور ممکنہ عسکری اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا،بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اس وقت تہران میں موجود نہیں ہیں اور انہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔
