ایران نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ کیا ہے۔
یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بحری ایندھن کا مرکز ہے جو بحری جہازوں کو ہرمز کے آبنائے کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی مرکز فجیرہ بندرگاہ نے حملے کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔یاد رہے کہ فجیرہ پورٹ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر، بحیرۂ عمان کے راستے، محدود پیمانے پر تیل کی فروخت اور ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران اب براہ راست دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے چوتھے روز خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی آئل ریفائنری اور قطر میں امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز نے Fujairah کے آئل زون کو نشانہ بنایا، جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ ہب تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔اماراتی حکام کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تیل کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ فجیرہ خطے میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر موجود ہیں، اس لیے اس حملے کو عالمی تیل منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس اڈے پر بھی حملے کیے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر بھی دو ایرانی ڈرونز ٹکرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بلا جواز اور بزدلانہ اقدام” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں، جہاں ایک برطانوی فضائی اڈے کو حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایرانی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں "ہر جہاز کو جلا دے گا”۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
