امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیاں اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہیں اور خطے میں خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے 155 سے زائد بحری جہازوں کو تباہ کیا ہے، جس کے باعث ایران کی روایتی بحریہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر بڑے جنگی جہاز، فریگیٹس اور آبدوزیں نشانہ بنیں، جنہیں طویل فاصلے کی تعیناتیوں اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ایران اپنے 7 میں سے 6 فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور 3 میں سے ایک آبدوز کھو چکا ہے، جو اس کے بحری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایک اہم کارروائی میں امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ان کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے تنگ سمندری راستوں میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان تیز رفتار کشتیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی محفوظ ہے۔ یہ کشتیاں میزائل حملوں، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی کشتیاں تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث اور سائز میں کم ہونے کی وجہ سے نگرانی سے بچ جاتی ہیں، جبکہ ایران نے ساحلی علاقوں میں زیر زمین اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں یہ حملہ آور کشتیاں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ایران کو بحری محاذ پر نقصان ہوا ہے، لیکن اس کی غیر روایتی بحری حکمت عملی اب بھی مؤثر ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں خطرہ برقرار ہے۔
ایرانی بحریہ کو بڑا نقصان، مگر تیز رفتار کشتیاں اب بھی خطرہ
