Baaghi TV

ترکی میں ایرانی جاسوسی نیٹ ورک کا پردہ فاش، پانچ صوبوں میں چھ افراد گرفتار

‎ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) اور سکیورٹی فورسز نے ترکی کے اندر سرگرم ایک مشتبہ ایرانی جاسوسی نیٹ ورک کو توڑ دیا اور پانچ صوبوں میں مشترکہ چھاپوں کے دوران چھ افراد کو گرفتار کیا۔
‎روزنامہ ’صباح‘ کے مطابق یہ گروہ حساس فوجی اور سکیورٹی معلومات اکٹھا کرنے اور ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا، جس میں جنوبی ترکی میں انجرلیک ایئر بیس کی نگرانی بھی شامل تھی۔
‎تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک کو ایرانی انٹیلی جنس افسران نجف رستمی (عرف حاجی) اور مہدی یکہ دہقان (عرف ڈاکٹر) چلا رہے تھے۔ رستمی نے وان صوبے میں رہائش پذیر علی جان کوچ کو ہدایت دی کہ وہ ایسے افراد بھرتی کرے جو آدانا میں انجرلیک بیس کے ارد گرد خفیہ تصاویر اور ویڈیوز بنا سکیں۔
‎مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ انقرہ میں مقیم ایرانی شہری اشکان جلالی نے اپنی کمپنیوں بلاق روبوٹکس اور آریٹے انڈسٹریز کے ذریعے ترکی سے ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور یونانی قبرصی انتظامیہ کو مسلح ڈرونز منتقل کرنے کی کوشش کی۔ مبینہ طور پر جلالی اور کوچ نے اگست اور ستمبر 2025 میں ایران میں ڈرون کی تربیت حاصل کی تھی۔
‎استنبول میں چھاپوں کے دوران دفاعی صنعت کے مالکان ارہان ارگیلن اور تانیر اوزجان، ٹیکسٹائل تاجروں جمال بیاز اور رمزی بیاز، علی جان کوچ اور اشکان جلالی کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں استنبول کی عدالت نے انہیں ’سیاسی یا فوجی جاسوسی کے لیے ریاستی خفیہ معلومات حاصل کرنے‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

More posts