Baaghi TV

اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

pak

پاکستان میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بات چیت کا یہ نیا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور بعض نکات پر شدید تناؤ بھی دیکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دو مرحلے ہو چکے ہیں، دوسرے مرحلے میں امریکا ایران آمنے سامنے تھے اور پاکستانی حکام بھی شریک تھے، پاکستانی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران “تبدیل ہوتے مزاج” اور “درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ” دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

بات چیت میں سب سے اہم اور حساس معاملہ آبنائے ہرمز کا ہے، جس پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی، کنٹرول اور خطے میں اس کے اثرات مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنے ہوئے ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دور مذاکرات ایک ممکنہ “آخری موقع” سمجھا جا رہا ہے تاکہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچ سکیں۔ تسنیم کے مطابق امریکی رضامندی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بات چیت کسی ابتدائی معاہدے یا فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایرانی وفد اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ وہ اپنی “فوجی کامیابیوں” اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ تہران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایرانی عوام کے حقوق اور خطے میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والےمذاکرات کا مجموعی لہجہ اور نتائج اب تک بڑی حد تک مثبت رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تعطل برقرار ہے، اس سے قبل ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکا نے آبی گزر گاہ بارے ناقابل قبول مطالبات کئے ہیں، ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اسی نوعیت کے اختلافات کی اطلاع دی ہے،

یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر رابطے جاری ہیں، جبکہ مذاکراتی ماحول کو محتاط اور حساس قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن فی الحال کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹے اس پورے عمل کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد امن مذاکرات میں ایرانی کو نفسیاتی برتری ملی ہے کوشش کے باوجود بات چیت دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے ، امریکی نائب صدر نتیجہ لیکر واپس جانے کے خواہشمند تھے ، اب اور کچھ ملکوں نے ایرانی صدر سے بات چیت کی ہے تاکہ معاملہ کس نتیجہ پرپہنچے ۔جے ڈی وینس امریکی مفاد میں کوئی معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ مڈل ٹرم الیکشن میں ووٹر کو کچھ دکھا سکیں دوسراوہ اگلے انتخابات میں صدارتی امیدوار بھی بننا چاہتے ہیں لیکن مذاکرات کو طول دیکر زیادہ سے زیادہ معاملات اپنے حق میں لانا چاہتا ہے کیونکہ یہ اس کے پاس بھی آخری موقع ہے

More posts