پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن مذاکرات سے قبل سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ اقدامات ایران اور امریکا ،اسرائیل جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا اعلان بدھ کے روز سامنے آیا تھا۔
ایران کی جانب سے جنگ کے ممکنہ حل کے لیے 10 نکاتی تجویز بھی جاری کی گئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے، جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور خطے میں جنگ کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری کارروائیوں کو بھی معاہدے کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حالیہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔
پاکستان، جس نے اس بحران میں ثالث کا کردار ادا کیا، کے مطابق لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ کے روز اسلام آباد میں متوقع ہے، جس کے لیے شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اسلام آباد میں ان اہم مذاکرات کا انعقاد پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔ ان کے مطابق ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری اور سفارتی دفاتر واقع ہیں، کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا اور صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی، جبکہ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ وفد میں سینئر شخصیات اسٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔پاکستانی قیادت، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل،چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر شامل ہیں، کی سفارتی کوششوں کے باعث پاکستان اس بحران میں اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
