عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک حتمی اور جامع معاہدہ طے پائے گا۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبرداری کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی پیشکش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے گزشتہ رات بھر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔
تاہم دو پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی گئی، حالانکہ سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر "اسلام آباد معاہدہ” کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جامع جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کر دیا،جنگ بندی تجویز سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شیئر فریم ورک 2 مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ بعد میں جامع معاہدہ شامل ہے۔ امریکا اور ایران کو جارحیت کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا منصوبہ موصول ہو گیا،رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق تمام عناصر پر آج اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت مفاہمت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا۔ ایران جنگ بندی منصوبہ آج سے نافذ العمل ہو سکتا ہے،
خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، چین اور امریکا کے وقتی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔،سینئر ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی تجویز موصول ہوئی ہے، جائزہ لیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایران کسی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر دھمکیوں اور گالیوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پرانی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کردی، معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن کا وقت منگل رات 8 بجے ایسٹرن ٹائم جاری کردیا۔ جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے ہے۔
