Baaghi TV

اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

iran

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، پاکستان مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے شریک ہے۔

مذاکرات سے قبل ایران اور امریکا کے وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امن کی صورتِ حال پر غور کیا گیا،1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے مہمانوں کا دارالحکومت میں خیر مقدم کیا ،امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوران فضا میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں بعض اوقات ماحول کشیدہ ہوا اور بعض لمحات میں نرمی بھی دیکھی گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں وفود کے رویوں میں "موڈ سوئنگز” دیکھنے میں آئیں اور ملاقات کے دوران درجہ حرارت یعنی ماحول کبھی گرم اور کبھی سرد رہا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت آسان مرحلے سے نہیں گزر رہی اور کئی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا گیا۔مذاکراتی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو کرتی رہیں، جس کے بعد وقفہ لیا گیا،

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے اہم نکات میں شامل ہے، مگر یہی معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

پاکستان میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پر آدھی رات گزرنے کے باوجود کوئی باضابطہ اعلامیہ، پریس بریفنگ یا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سفارتی حلقوں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک جو محدود معلومات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ اور تہران کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں سے موصول ہوئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز اور دیگر کئی معاملات پر ایسے مطالبات پیش کیے ہیں جنہیں ایران نے "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران "ضرورت سے زیادہ مطالبات” پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد، پاکستانی حکام اور میزبان انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں موجود صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بھی ابھی تک کسی بریفنگ کا انتظار ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تناؤ کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، لیکن کسی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ خاموش رات کسی بڑے اعلان پر ختم ہوگی یا نہیں۔

More posts