Baaghi TV


اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع

‎اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت برقرار ہے۔ حکام کے مطابق وفود کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر کسی وفد کی آمد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
‎بی بی سی کی ٹیم جب ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب رپورٹنگ کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفود کی آمد کے حوالے سے حساس معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
‎ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
‎اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اسلام آباد پر مرکوز ہے اور متعدد بین الاقوامی صحافی شہر پہنچ چکے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کی کوریج کی جا سکے۔
‎دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وفد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم وہ پوسٹ کچھ ہی دیر بعد حذف کر دی گئی، جس کے بعد مزید قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
‎ابھی تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ ممکنہ بات چیت ہفتے کی صبح ہو سکتی ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts