Baaghi TV

اسلام آباد میں تاریخی امن مذاکرات، پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز میں

اسلام آباد کی سڑکیں اچانک دو روزہ تعطیل کے اعلان کے بعد سنسان ہو گئی ہیں، جہاں سخت سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے اہم علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے اہم جنگ بندی مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ طے پانے کی امید کی جا رہی ہے۔

پاکستان، جو ماضی میں دہشت گردی اور معاشی مشکلات کے حوالے سے خبروں میں رہتا تھا، اب ایک اہم عالمی ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد پہلی بار واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مقصد کئی ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔یہ پیش رفت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے برعکس، جب انہوں نے پاکستان پر “جھوٹ اور دھوکے” کے الزامات عائد کیے تھے۔ اب صورتحال بدل چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

مذاکرات میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے۔ جے ڈی وینس 2011 کے بعد پاکستان آنے والے اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار ہوں گے، جو ان مذاکرات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے جغرافیائی اہمیت، متوازن خارجہ پالیسی اور بدلتے علاقائی اتحاد کارفرما ہیں۔ ایشیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر فروا عامر کے مطابق، “پاکستان نے آخری وقت میں جو سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، اس سے اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک فعال عالمی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔”ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے، خاص طور پر 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد، جب وہ ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں جو بائیڈن کے دور میں بھی تعلقات میں سرد مہری رہی۔تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے بلکہ معدنی وسائل، خاص طور پر نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا۔ ساتھ ہی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اختیار کی، جسے واشنگٹن میں سراہا گیا۔

پاکستان کے لیے یہ امن مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی نے خلیج میں توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ اس کے مفاد میں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس سارے عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھی۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی روابط بہتر ہوئے ہیں۔ یہی متوازن حکمت عملی اسے ایک مؤثر ثالث بناتی ہے۔مزید برآں، پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ سفارتی رابطے نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دی، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، اور شہر کے معروف سرینا ہوٹل کو مکمل طور پر مذاکرات کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ ہوٹل کے مہمانوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کی جا سکے۔اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر صورتحال اب بھی نازک ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے، جس سے مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی کوشش ہے کہ یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہو اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے ایک نہایت اہم وقت پر خود کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر منوا لیا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوں گے۔

More posts