اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی مذاکرات کے حوالے سے پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایماندار اور مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داری فریقین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کم از کم مشترکہ نکتے پر اتفاق کریں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیچیدہ، حساس اور دہائیوں پر محیط مسائل کسی ایک رات میں حل نہیں ہو سکتے، اس لیے مذاکراتی عمل کو صبر اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ملک ہرگز یہ تاثر نہیں چاہتا کہ اگر مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہو تو اس کی ذمہ داری کسی حد تک پاکستان پر عائد کی جائے۔ اس لیے پاکستان نے خود کو ایک سہولت کار تک محدود رکھا ہے اور تمام فریقین کو تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی میڈیا نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے غیر جانبدار، محتاط اور غیر قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے، جسے حکومتی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ عام حالات میں پاکستانی میڈیا نسبتاً زیادہ اظہارِ خیال کرتا ہے، تاہم اس موقع پر میزبان اور ثالث ہونے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسی واضح، مستقل اور دستاویزی شکل میں موجود ہے، جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت شامل ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا و ایران کے مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتے ہیں، تاہم کامیابی کا دارومدار براہ راست متعلقہ فریقین کی سنجیدگی اور لچک پر ہوگا۔
