اسلام آباد میں ہونے والے امریکا،ایران مذاکرات کے دوران امریکی وفد اپنی ذاتی سکیورٹی گاڑیاں استعمال کرے گا۔
ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد سے قبل جمعرات کے روز ایک خصوصی طیارہ پاکستان پہنچا، جس میں وفد کے لیے جدید اور محفوظ گاڑیاں بھی لائی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں امریکی وفد کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوں گی تاکہ سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ خصوصی طیارہ C-15 کے ذریعے لایا گیا سامان سفارتی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے کیونکہ اس کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز آج سے اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انتہائی اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا مرحلہ آج وفود کی سطح پر ہوگا، جبکہ مرکزی اور فیصلہ کن مرحلہ ہفتے کے روز متوقع ہے۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس کے علاوہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے،اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، شرکاء کیلئے ویزا آن آرائیول کی سہولت بھی متعارف کرادی گئی ہے۔
