مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل کو اپنے جدید دفاعی نظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافے کے باعث اسرائیل کے اعلیٰ صلاحیت کے حامل "ایرو میزائل انٹرسیپٹرز” کم پڑنے لگے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے جدید ترین انٹرسیپٹرز کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے راشننگ شروع کر دی ہے، تاکہ کسی بڑے یا طویل تنازع کی صورت میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اسرائیل نے نسبتاً کم صلاحیت والے انٹرسیپٹرز کو اپ گریڈ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، تاہم یہ حکمت عملی مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں دیمونا اور اراد کے علاقوں پر ہونے والے حملوں کے دوران انہی کم صلاحیت والے لیکن ترمیم شدہ انٹرسیپٹرز کا استعمال کیا گیا، جو کئی مواقع پر ناکام رہے، جس سے دفاعی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل کو اپنے دفاعی وسائل کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہوگی، کیونکہ جدید انٹرسیپٹرز کی کمی طویل المدتی دفاعی چیلنج بن سکتی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔
اسرائیل کو ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی، دفاعی دباؤ میں اضافہ
