Baaghi TV

اسرائیل ترکیہ کو نیا ہدف بنا سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ

‎ترک وزیر خارجہ نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل مستقبل میں ایران کے بعد ترکیہ کو اپنا نیا دشمن قرار دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں کے تحت ہمیشہ کسی نہ کسی دشمن کی تلاش میں رہتا ہے اور بغیر دشمن کے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔
‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے ایران سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، تاہم اسرائیل اس عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
‎انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اس اہم تجارتی راستے کو پرامن سفارتکاری کے ذریعے کھولنے کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جو پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
‎ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل کی حالیہ سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں غزہ جیسی صورتحال پیدا کر رہی ہیں، جو مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے اسرائیل اس وقت شام پر حملہ نہیں کر رہا، لیکن جیسے ہی حالات سازگار ہوئے، شام بھی نشانے پر آ سکتا ہے۔
‎انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور علاقائی سیکیورٹی کے لیے مشترکہ معاہدے کی طرف بڑھیں۔ ان کے مطابق یونان، قبرص اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔
‎ترک وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد خطے کی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں ماہرین اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کس سمت جا سکتی ہے اور اس کے عالمی اثرات کیا ہوں گے۔

More posts