جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں صحافیوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث دو لبنانی صحافی جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران صحافیوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق حملے میں المنار ٹی وی کے رپورٹر علی شعیب اور المیادین ٹی وی کی نمائندہ فاطمہ فتونی جان کی بازی ہار گئے۔ اطلاعات کے مطابق فاطمہ فتونی کے بھائی، جو کیمرہ مین کے طور پر کام کر رہے تھے، وہ بھی اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق صحافی ایک گاڑی میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد میڈیا تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ زمینی حقائق دنیا تک پہنچاتے ہیں، تاہم ایسے واقعات ان کی جانوں کو لاحق خطرات کو واضح کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے، اور اس طرح کے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
لبنان میں صحافیوں کی گاڑی پر حملہ، دو صحافی جاں بحق
