Baaghi TV

اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے

‎لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں تازہ فضائی حملوں میں طبی عملے اور امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے راس العین کے علاقے میں ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بمباری کی، جس سے امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
‎حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے بلکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل مسترد کیے جانے کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
‎دوسری جانب عالمی سطح پر بھی ان حملوں پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ یوسف رگی نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر حملے ناقابل قبول ہیں اور عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے انہیں رکوانا چاہیے۔
‎آئرش وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملے اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
‎ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی بغیر نام لیے امریکا کو خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اتحادی، جن میں لبنان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ جنگ بندی عمل کا لازمی حصہ ہوں گے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
‎یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم ان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

More posts