اٹلی نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر بمباری کے بعد امریکی طیارے سسلی کے ایئربیس پر لینڈنگ کے خواہاں تھے، تاہم اٹلی نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق آپریشنز کے لیے بھی امریکی طیاروں کو اس بیس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
دوسری جانب اسپین نے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسپین کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
اسی تناظر میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی خود کو کسی جنگ کا میدان بننے دے گا۔ انہوں نے ایران کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق یورپی اور علاقائی ممالک کے یہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ کئی ریاستیں براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار
