Baaghi TV

جب سیاست سے اخلاق نکل جائے تو …تحریر: زینب جہانزیب

ہم اکثر سیاست کو اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں۔ کون جیتا، کون ہارا، کس کی حکومت بنی، کس کی کرسی گئی، کس کے پاس اختیار ہے اور کس کے پاس نہیں۔ مگر شاید ہم سیاست کا سب سے اہم سوال کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں؛ اس سارے اقتدار کے درمیان انسان کہاں ہے؟ ریاستیں صرف آئین، اسمبلیوں، اداروں اور سرحدوں سے نہیں بنتیں، ریاستیں اس اعتماد سے بنتی ہیں جو ایک عام آدمی اپنے نظام پر کرتا ہے۔ وہ مزدور جو صبح اپنے بچوں کے لیے روٹی کمانے نکلتا ہے، وہ ماں جو مہینے کے آخر میں اخراجات جوڑتے ہوئے اپنی ضرورتیں کم کر دیتی ہے، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا ہے، وہ دکاندار جو مہنگائی کے باوجود اپنی چھوٹی سی دکان چلا کر گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کرتا ہے، یہی لوگ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ مگر افسوس، سیاست کی بڑی بحثوں میں اکثر یہی لوگ سب سے کم نظر آتے ہیں۔

ہم نے سیاست میں اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے۔ ایک شخص اگر ہماری جماعت کے ساتھ ہے تو اس کی ہر بات ہمیں درست لگتی ہے، اور اگر وہ دوسری طرف کھڑا ہے تو ہمیں اس کی سچائی بھی سازش محسوس ہونے لگتی ہے۔ اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر اختلاف کرنے والے کو انسان سمجھنا جمہوریت کی اخلاقی ضرورت ہے۔ ہم کسی کے سیاسی نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کی پالیسی کو غلط کہہ سکتے ہیں، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھا سکتے ہیں، مگر کیا ضروری ہے کہ اس اختلاف کے ساتھ ہماری انسانیت بھی ختم ہو جائے؟

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاست میں مفاد کیوں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ مفاد نے اصولوں کو کیوں نگل لیا ہے۔ اقتدار عارضی چیز ہے۔ آج جو شخص کرسی پر بیٹھا ہے، کل کوئی دوسرا بیٹھے گا۔ آج جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کل وہی شخص اختیار کے دروازے کے باہر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جو عہدے کے ختم ہونے کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے، اس کا کردار۔
ہماری سیاست کو شاید نئے نعروں سے زیادہ نئے اخلاق کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایسے شہری بھی چاہیے جو اپنے مخالف کے حق کو بھی اتنا ہی اہم سمجھیں جتنا اپنے حق کو۔ کیونکہ اخلاق صرف اس وقت اخلاق نہیں رہتا جب وہ ہمارے مفاد میں ہو؛ اصل اخلاق تو تب سامنے آتا ہے جب سچ ہمارے خلاف کھڑا ہو۔ اگر ہمارا پسندیدہ رہنما غلط کرے اور ہم پھر بھی اسے غلط کہنے کی ہمت رکھیں، تو شاید ہم واقعی سیاسی شعور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ملک بدلنا چاہیے، نظام بدلنا چاہیے، سیاست بدلنی چاہیے۔ مگر تبدیلی ہمیشہ ایوانِ اقتدار سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی تبدیلی ایک عام انسان کے اس فیصلے سے شروع ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ کو صرف اس لیے قبول نہیں کرے گا کہ جھوٹ اس کے مفاد میں ہے۔ وہ ناانصافی پر اس لیے خاموش نہیں رہے گا کہ مظلوم اس کا اپنا نہیں۔ وہ غلط بات کو صرف اس لیے درست نہیں کہے گا کہ اسے کہنے والا اس کا پسندیدہ رہنما ہے۔
کیونکہ قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں، اچھے اجتماعی کردار سے بنتی ہیں۔ اور شاید ہماری سب سے بڑی سیاسی شکست یہ نہیں کہ ہم نے غلط لوگوں کو منتخب کیا؛ ہماری بڑی شکست یہ ہے کہ ہم نے اپنے پسندیدہ لوگوں کی غلطیوں کو بھی سچ کا نام دینا شروع کر دیا۔ ہم نے شخصیات کو اصولوں سے بڑا بنا دیا، جماعتوں کو ضمیر سے بڑا بنا دیا، اور جھنڈوں کو انسانوں سے بڑا بنا دیا۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں برداشت کیوں نہیں رہی۔

جس دن ہم اپنے سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنا چھوڑ دیں گے، شاید اسی دن ہماری سیاست میں انسان دوبارہ زندہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ جس دن ہم یہ مان لیں گے کہ میرے مخالف کو بھی وہی عزت، انصاف اور بنیادی حقوق حاصل ہیں جو میں اپنے لیے چاہتا ہوں، اسی دن سیاست محض اقتدار کا کھیل نہیں رہے گی بلکہ اجتماعی ذمہ داری بن جائے گی۔
ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے طاقتور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ ریاست کا اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب ایک کمزور آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو اور اس کے پاس سفارش، دولت یا طاقت کچھ بھی نہ ہو۔ اگر اسے پھر بھی انصاف مل جائے، اگر اسے اپنی آواز سنانے کے لیے کسی بااثر شخص کی ضرورت نہ پڑے، اگر قانون اس کے لیے بھی اتنا ہی ہو جتنا طاقتور کے لیے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست ابھی زندہ ہے۔

ہمیں شاید سیاست میں سب سے پہلے یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار انسان کو بڑا نہیں بناتا، اقتدار انسان کے اندر موجود کردار کو بےنقاب کرتا ہے۔ عہدہ ملنے سے کوئی عظیم نہیں ہو جاتا، بلکہ عہدہ ملنے کے بعد وہ کمزور انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، یہی اس کی اصل عظمت کا پیمانہ ہے۔
اور آخر میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کس کے ہاتھ میں حکومت تھی، کس کے پاس اختیار تھا اور کس نے کتنے سال اقتدار کیا۔ سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ جب اختیار ہمارے ہاتھ میں تھا، تب ہم نے انسان کے ساتھ کیا کیا؟
کیونکہ کرسی ایک دن خالی ہو جاتی ہے، عہدہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے، نام کتابوں میں چند سطروں تک رہ جاتا ہے۔ مگر کسی مظلوم کی آہ، کسی غریب کی بھوک، کسی بےآواز انسان کی محرومی اور کسی کمزور کے ساتھ کیا گیا انصاف یا ناانصافی، یہ سب کہیں نہ کہیں محفوظ رہتا ہے۔
اور شاید تاریخ سے زیادہ خوف ہمیں اپنے ضمیر سے ہونا چاہیے۔
کیونکہ تاریخ شاید ہمیں بھول جائے، لوگ شاید ہمیں معاف کر دیں، وقت شاید ہمارے کیے ہوئے فیصلوں کو مٹا دے، مگر ضمیر وہ عدالت ہے جہاں اقتدار ختم ہونے کے بعد بھی مقدمہ چلتا رہتا ہے۔

More posts